سادگی نصف ایمان ہے
(رفعت خانم ‘ فیصل آباد)
قارئین! آج کے دور میں نمود و نمائش اتنی بڑھ گئی ہے کہ اپنی ”عزت“ بڑھانے کے چکر میں متوسط لوگ بھی پیچھے نہیں رہے۔ جن کے پاس پیسہ ہے وہ تو یہ اسراف و فضول خرچیاں کریں مگر جنہیں استطاعت نہیں وہ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس لعنت کا شکار ہو چکے ہیں۔ خصوصاً شادی بیاہ کے معاملات میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں خواہ بعد میں مقروض ہو جائیں۔ میں ذاتی طور پر ایک ایسی خاتون کو جانتی ہوں جنہوں نے خاندان اور معاشرے میں ”ناک “ اونچی رکھنے کےلئے بچوں کی شادیوں پر قرض لئے اور کاروبار کا بہانہ بنا کر بینک سے قرض لیا۔ اس وقت تو خاندان میں اور محلے میں ان کی شان بڑھ گئی اور لوگ کہتے تھے کہ کتنے شاندار طریقے سے شادیاں کی ہیں۔ بری، زیور اور بچیوں کا جہیز لاکھوں روپے کا تھا اور نت نئے کھانے الگ۔ مگر اب ان کا یہ حال ہے کہ چند روز قبل میں نے انہیں دیکھا تو حیران ہو گئی کہ یہ وہی ہیں۔ اتنی کمزور اور پریشان حال۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ بینک سے قرضہ لیا تھا اصل بھی ادا نہیں ہوا صرف سود کا ماہانہ بیس ہزار بنتا ہے۔ وہ کہاں سے دیں اور کھائیں کہاں سے کہ مہینہ تو فوراً ہی گزر جاتا ہے۔ کچھ دیر کے بعد وہ چلی گئیں۔ میں سوچنے لگی کہ اگر اس وقت قرض نہ لیتیں، سادگی سے شادی کر دیتیں تو آج یہ د ن نہ دیکھنے پڑتے۔ اب لوگ ان کے اس حال پر توبہ توبہ کرتے ہیں مگر اتنی توفیق کسی کو نہیں ہوتی کہ کوئی تو بارش کے پہلے قطرے کی سی جرات کرے اور اپنی زندگی کے معاملات میں سادگی اختیار کرے۔ خصوصاً شادیوں کی فضول رسموں پر اتنا پیسہ برباد کرنے کی بجائے یہ پیسہ کسی غریب کو دے دیا جائے یا کسی اور طرح سے مدد کر دی جائے تو دونوں جہانوں میں سرخروئی کا باعث ہو۔ صرف اپنی ”ناک “ اونچی رکھنے کےلئے اتنا پیسہ خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے۔ ماشاءاللہ ” عبقری“ کے قارئین کی تعداد لاکھوں ہزاروں میں تو ہو گی تو ہمیں ملکر عہد کرنا چاہیے کہ آج سے ہم اپنے ہر معاملے میں سادگی کو ترجیح دیں گے۔ اس سے نہ صرف اسراف سے بچیں گے بلکہ آئندہ زندگی میں بھی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔ معاشرے کی فکر کرنا چھوڑیں کہ وہ کیا کہے گا کیونکہ معاشرہ بھی تو ہم اور آپ ہی ہیں ناں۔ ہماری اجتماعی سوچ بدلنے سے اس قبیح رسم کا خاتمہ ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
انمول خزانہ سے جادو ٹوٹا
محترم حکیم صاحب ۔ السلام علیکم!
مجھ پر جادو کا اثر تھا کچھ عرصہ پہلے میں نے آپ سے علاج کروایا تھا۔ آپ نے مجھے دو انمول خزانے پڑھنے کو کہا تھا۔ اب میں مسلسل اور باقاعدگی سے انمول خزانے پڑھ رہی ہوں اور اب مجھے زبانی یاد ہو گئے ہیں۔ جب میرا دل چاہتا ہے میں 21 دن والا وظیفہ شروع کر دیتی ہوں۔ آپ سے علاج کروانے کے بعد میں بالکل ٹھیک ہو گئی ہوں۔ میں جب بھی سفر پر جاتی ہوں تو ( دو انمول خزانے) پڑھتی رہتی ہوں لیکن دو چار دن پہلے مجھے خواب میں ایک بیمارلڑکی نظر آئی جسے شاید سایہ تھا (وہ لڑکی ہمارے جاننے والی ہے حقیقت میں بالکل صحیح ہے) اس وقت میں دو انمول خزانے پڑھ رہی تھی میں نے اسے پاس بٹھا کر اس کےلئے دو انمول خزانہ پڑھنا شروع کیا جب میں ان الفاظ پر آئی شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہ لآَ اِلٰہَ اِلَّاہُوَتو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ کوئی چیز مجھے پڑھنے سے روک رہی ہے اور میرے ہونٹ پھولنا شروع ہو گئے۔ میں مستقل مزاجی سے پڑھتی رہی اور وہ لڑکی بالکل تندرست ہو گئی۔
مجھے دو تین اور خواب بھی آ چکے ہیں جس میں مجھے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن (خواب میں) دو انمول خزانہ پڑھنے کی وجہ سے میں محفوظ رہتی ہوں ۔ دو انمول خزانہ کے حوالے سے میرے بہت سے مشاہدات بھی ہیں جو میں وقتاً فوقتاً قارئین کی نذر کرتی رہوں گی۔ (مسز تنویر‘ شاہدرہ)
تجربہ
ویسے میں سوچتا رہا کہ یہ پاﺅڈر کیا ہے ۔ایک دن مجھے کسی نسخہ کےلئے زنک آکسائیڈ کی ضرورت پڑی تو میں نے کیمیکل کا کاروبار کرنے والے سے بات کی۔کیمیکل والے نے کہا کہ دو قسم کی ہوتی ہے‘ زنک آکسائیڈ ایک قسم تو پینٹ میں استعمال ہوتی ہے اور یہ زنک بہت سستی ہے غالباً 15روپے کلو اور دوسری بڑی اعلیٰ قسم کی جو کہ تقریباً 500 روپے کلو بازار سے مل جائے گی۔ جوکہ حیدر آباد مدنی کمپنی کی ہے۔ (Zinc Oxide) 99.9%تو مجھے فوراً خیال آیا کہ چاچا یوسف والا پاﺅڈر جو کہ کیپسول میں ہوتا تھا شاید یہی ہو اللہ کرے کہ یہ یہی ہو (مدنی کمپنی حیدر آباد) یعنی اکسیر اعظم ہر مرض کی دوا تھی۔ واللہ اعلم
آپ بھی تجربہ کریں
ایک دوسری بات یاد آ گئی وہ یہ کہ ایک دفعہ چاچا یوسف بھٹوں کے برتنوں میں کوئی نہ کوئی چیز کشتہ بنانے کےلئے رکھا کرتے تھے انہوں نے خود بتایا تھا کہ میں جب مذکورہ ہانڈی (کشتہ کی ہانڈی) لینے گیا تو مالک بھٹہ نے وہ ہانڈی مجھے دے دی جس میں میرا نہیں کسی اور صاحب کا کشتہ تھا (انڈوں کے چھلکوں کا کشتہ) اب ہو سکتا ہے کہ بقول چاچا یوسف کے لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے ٹالنے کےلئے کہا ہو گا کہ یہ پاﺅڈر انڈوں کے چھلکوں کا کشتہ ہے۔ (واللہ اعلم)